سائن بورڈ مافیا نے شہرقائد کو یرغمال بنا رکھا ہے؟
اہم شاہراہیں، پل، سرکاری و عوامی املاک، سائن پولز، دیواریں اور بلند و بالا عمارتیں اشتہاری مواد سے اٹی پڑی ہیں، کراچی کا حسن بری طرح متاثر ،سرکاری اور عوامی املاک پر اشتہاری سائن بورڈز نصب کرنے کی اجازت نہیں، سپریم کورٹ، مارکیٹوں میں بڑے سائن بورڈ نصب کرنیکی کوششیں جاری
کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان کی سائن بورڈ مافیا کی حوصلہ شکنی اور غیر قانونی سائن بورڈز کی روک تھام کے لیے سرگرم ، مرکزی شاہرہ پر بڑا اشتہاری سائن بورڈ نصب، جبکہ دوسرا لگ نہیں سکا، شہری حلقوں کا غیرقانونی اشتہاری ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)شہرِ قائد میں غیر قانونی اشتہاری سائن بورڈز اور ہورڈنگز کی بھرمار نے شہریوں، تاجر برادری اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ شہر کی اہم شاہراہیں، پل، سرکاری و عوامی املاک، سائن پولز، دیواریں اور بلند و بالا عمارتیں اشتہاری مواد سے اٹی پڑی ہیں، جس کے باعث کراچی کا حسن بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق سرکاری اور عوامی املاک پر اشتہاری سائن بورڈز نصب کرنے کی اجازت نہیں، جبکہ دکانوں کے لیے بھی مخصوص سائز کے شاپ سائن بورڈز کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی اشتہاری ڈھانچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ کمشنر کراچی نے غیر قانونی اشتہاری مواد کے خلاف کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی تھیں اور مقررہ مدت کے اندر سائن بورڈز ہٹانے کے لیے انتباہ بھی دیا گیا تھا، تاہم تاحال ان احکامات پر مؤثر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ ایشیا کی سب سے بڑی الیکٹرونکس مارکیٹ میں بھی مختلف طریقوں سے اشتہاری سائن بورڈز نصب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان اس رجحان کی حوصلہ شکنی اور غیر قانونی سائن بورڈز کی روک تھام کے لیے سرگرم ہیں، تاہم اس کے باوجود مرکزی شاہراہ پر ایک بڑا اشتہاری سائن بورڈ نصب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ دوسرا لگ نہیں سکا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر غیر قانونی اشتہاری ڈھانچوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو نہ صرف شہر کی خوبصورتی مزید متاثر ہوگی بلکہ یہ ڈھانچے عوامی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ، تاجر تنظیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے کے حل کے لیے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟