معاشی بحران، عوام بدستور مشکلات کا شکار

معاشی بحران، عوام بدستور مشکلات کا شکار

حکومت کی معاشی ٹیم ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں اضافے کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شرح نمو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند پیش رفت دکھائی دیتی ہے، تاہم معاشی اشاریوں کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو صورت حال اتنی حوصلہ افزا نظر نہیں آتی۔شرح نمو اب بھی 4 فیصد کی حد عبور نہیں کر سکی، حالانکہ موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے تقریباً چار سال گزر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین معاشیات اس سوال کو اہم قرار دیتے ہیں کہ آیا اس کارکردگی پر جشن منایا جائے یا اس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔متعدد ماہرین کے مطابق پاکستانی معیشت اس وقت حقیقی بحالی کے بجائے محض استحکام کے مرحلے میں ہے۔ بعض مبصرین تو اسے اس مریض سے تشبیہ دیتے ہیں جسے مصنوعی طریقے سے زندہ رکھا گیا ہو، مگر اس بیماری کی بنیادی وجوہات کے علاج سے گریز کیا جا رہا ہو۔ یعنی معیشت کو وقتی سہارا تو مل رہا ہے، لیکن دیرینہ مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔اگرچہ سرکاری اعداد و شمار معاشی بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن عام شہری کی زندگی میں اس کے اثرات نمایاں نہیں ہو رہے۔ سرمایہ کاری کی شرح بدستور کمزور ہے اور ملکی سرمایہ کاری جی ڈی پی کے مقابلے میں 13 سے 15 فیصد کے درمیان محدود ہے، جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی کئی برسوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔دوسری جانب بے روزگاری نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں جبکہ مہنگائی کے دباؤ نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ خوراک، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور علاج معالجے کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث عوام کو معاشی بہتری کے دعوے اپنی عملی زندگی سے مطابقت رکھتے دکھائی نہیں دیتے۔حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کو معاشی ترقی کی کنجی قرار دیتی ہے اور کم ٹیکس، سستی توانائی، کم شرح سود اور کاروبار دوست ماحول کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔ تاہم کاروباری حلقوں کا مؤقف ہے کہ سپر ٹیکس، سرچارجز اور دیگر محصولات نے صنعت و تجارت پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جس سے سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہو رہا ہے۔قرضوں کے معاملے میں بھی حکومت بعض اشاریوں میں بہتری کو کامیابی قرار دیتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجموعی قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل کامیابی قرضوں کے تناسب میں کمی نہیں بلکہ انہیں واپس کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے۔ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو معاشی دباؤ کی ایک وجہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی پر بڑھتا ہوا انحصار بھی مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت پر پڑتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ٹیکس اصلاحات بھی حکومت کے اہم دعوؤں میں شامل ہیں، لیکن عملی طور پر ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ توسیع نظر نہیں آتی۔ تنخواہ دار طبقہ، صنعتکار اور رجسٹرڈ کاروبار مسلسل زیادہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جبکہ معیشت کا ایک بڑا غیر دستاویزی حصہ اب بھی ٹیکس نظام سے باہر ہے۔معاشی استحکام کے دعووں کے باوجود عام آدمی کی زندگی آسان نہیں ہو سکی۔ متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے، کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور گھریلو بجٹ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی اشاریوں میں معمولی بہتری کے باوجود عوامی اعتماد بحال نہیں ہو پا رہا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب صرف استحکام نہیں بلکہ پائیدار معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار کے مواقع اور مؤثر ٹیکس اصلاحات کے بغیر مضبوط اور خود کفیل معیشت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔عوام اب اعداد و شمار سے زیادہ اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ حکومت کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ معاشی استحکام کو کس طرح پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ 

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟ رائے دیں:

کل دیکھنے والے: 5

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top