اے آئی اپنانے والی کمپنیوں کی آمدنی اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ، نئی رپورٹ
لندن: ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) استعمال کرنے والی کمپنیوں کی کارکردگی، آمدنی اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری آ رہی ہے، جبکہ پرانی اور لندن سے باہر قائم کاروباری اداروں کے اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔اِنٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ "اے آئی امپیکٹ رپورٹ 2026" میں کوئک بُکس استعمال کرنے والے دنیا بھر کے 53 لاکھ سے زائد کاروباروں کے گمنام انتظامی اعداد و شمار اور برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا کے 34 ہزار سے زائد کاروباری اداروں کے سرویز کا جائزہ لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی 70 فیصد کمپنیاں کسی نہ کسی سطح پر مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ تحقیق میں شامل 77 فیصد کاروباروں نے بتایا کہ اے آئی کے استعمال سے ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا، جبکہ 43 فیصد کے مطابق اس ٹیکنالوجی نے آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 27 فیصد اداروں کے کام کے اوقات میں کمی آئی، جبکہ 28 فیصد کاروباروں نے اخراجات کم ہونے کی نشاندہی کی۔تاہم تحقیق کے مطابق پرانی کمپنیاں نئی کمپنیوں کے مقابلے میں اے آئی اپنانے کے معاملے میں 35 فیصد کم متحرک ہیں، جس سے ان کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب لندن میں قائم کاروبار ملک بھر کی اوسط کے مقابلے میں روزانہ اے آئی استعمال کرنے کے 13.8 فیصد زیادہ امکانات رکھتے ہیں، جس سے دارالحکومت اور دیگر علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل فرق بھی نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کاروباری دنیا میں تیزی سے ایک اہم ضرورت بنتی جا رہی ہے، اور جو ادارے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں تاخیر کریں گے انہیں مستقبل میں سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔