فیفا ورلڈ کپ میں پاکستانی نژاد فٹبالر نے تاریخ رقم کر دی
فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اگرچہ عراق کو اپنے پہلے میچ میں ناروے کے ہاتھوں 4-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم یہ مقابلہ پاکستانی شائقین کے لیے ایک تاریخی لمحہ ثابت ہوا۔میچ کے 59ویں منٹ میں عراقی مڈفیلڈر Zidane Iqbal میدان میں اترے اور یوں وہ فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بن گئے۔ پاکستان اگرچہ آج تک ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا، لیکن زیدان اقبال کی شرکت نے پاکستانی فٹبال شائقین کو عالمی سطح پر نمائندگی کا احساس دلایا۔23 سالہ زیدان عمار اقبال انگلینڈ کے شہر مانچسٹر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عامر اقبال کا تعلق پنجاب کے شہر ساہیوال سے ہے جبکہ والدہ عراق سے تعلق رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں انگلینڈ، پاکستان اور عراق تینوں ممالک کی نمائندگی کا موقع حاصل تھا۔زیدان اقبال کی عراق کی قومی ٹیم تک رسائی کی کہانی بھی خاصی دلچسپ ہے۔ عراقی فٹبال سے وابستہ ایک مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے ان کے عراقی پس منظر کی نشاندہی کی، جس کے بعد عراقی فٹبال حکام نے ان سے رابطہ کیا۔ متعدد ملاقاتوں اور ویڈیو کالز کے بعد انہیں عراق کی قومی ٹیم کا حصہ بننے پر آمادہ کیا گیا۔بعد ازاں ایک انٹرویو میں زیدان اقبال نے بتایا کہ عراقی شائقین اور فٹبال فیڈریشن کی جانب سے ملنے والی محبت اور پذیرائی نے ان کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، ’’جب لوگ آپ کو اتنی محبت دیں تو اس کا جواب دینا فطری بات ہوتی ہے۔‘‘فٹبال ماہرین کے مطابق پاکستان فٹبال کے حکام بھی زیدان اقبال کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے تھے، تاہم دونوں ممالک کے فٹبال ڈھانچے اور مواقع میں واضح فرق کے باعث عراق ان کے لیے زیادہ موزوں انتخاب ثابت ہوا۔زیدان اقبال کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی کامیابی دنیا بھر کے ایشیائی اور عرب نژاد نوجوانوں کو اپنے خوابوں کے تعاقب کی ترغیب دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر میں یہ کر سکتا ہوں تو دوسرے بھی ضرور کر سکتے ہیں۔‘‘اگرچہ عراق اپنے ورلڈ کپ سفر کا آغاز فتح کے ساتھ نہ کر سکا، لیکن پاکستانی نژاد زیدان اقبال کی میدان میں آمد نے اس میچ کو پاکستان کے لیے ایک یادگار اور تاریخ ساز لمحہ بنا دیا۔